2016 نومبر 10

عمیر ملک

ہائپر لوپ کیا ہے؟

ہائپر لوپ کا تصوراتی خاکہ (تصویر: وکیپیڈیا)۔
ہائپر لُوپ، ایک (فی الحال) تصوراتی نظام آمد و رفت ہے جس کا تصور ٹیسلا موٹرز اور سپیس ایکس کے سی ای او ایلان مسک نے چند سال پہلے پیش کیا تھا۔ اس نظام میں ریل کی بوگی پٹری پر دوڑنے کی بجائے ایک ٹیوب میں سفرکرے گی۔ بوگی یا جدید زبان میں پوڈ pod یا کیپسول capsule پہیوں کی بجائے پریشرائزڈ ہوا کے دوش پرسفر کریں گے، یعنی کہ کیپسول اور ٹیوب میں کسی قسم کی رگڑ نہیں ہوگی۔ ٹیوب میں ہوا کا دباؤ قدرتی دباؤ سے کم رکھا جائے گا، تا کہ کیپسول کو ہوا کے دباؤ سے پیدا ہونے والی رکاوٹ کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ ان بوگیوں کے نیچے پہیوں کی جگہ پریشرائزڈ ہَوا ایک طرح کا پیڈ یا کُشن بنائے گی اور ان میں لگے طاقتور ایئر کمپریسر کیپسول کے سامنے سے ہوا کا دباؤ کم کریں گے جس سے کیپسول آگے بڑھے گا۔ انجن کے طور پہ ابھی تک کئی ایک متبادل ٹیکنالوجیز استعمال کی جا سکتی ہیں مثلاً بجلی یا معلق مقناطیس۔ اس نظام کے ذریعے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچا جا سکتا ہے۔
ٹیوب اور کیپسول کا تصوراتی خاکہ، کیپسول کے پچھلے حصے میں پاور کمپارٹمنٹ سے، درمیان میں مسافر خانہ اور آگے ایئر کمپریسر (تصویر: وکیپیڈیا)۔
اس قسم کے تصوراتی اور فیوچرسٹک یا مستقبل نما قسم کے نظام آمد و رفت اس سے پہلے بھی منظر عام پہ آ چکے ہیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں سائنسدانوں اور انجینئروں نے انجن کی بجائے ہوا کے دباؤ سے چلنے والی ریل گاڑیوں کے کئی تجربے کئے لیکن کوئی بھی بڑے پیمانے پر کامیاب نہ ہو سکا۔ البتہ انہی تجربوں کی بنیاد پہ موجودہ صدی میں کئی ایک ایسے منصوبے کامیابی سے تکمیل کئے جا چکے ہیں جو ریل گاڑی کے برعکس پہیوں اور پٹری کی رگڑ کے بغیر ہیں۔ مثال کے طور پہ میگ لیو(MagLev) ٹیکنالوجی جو ریل گاڑی کو مقناطیس کی مدد سے ہوا میں معلق کر دیتی ہے اور پھر اس کو دھکیلا جاتا ہے۔ چین میں موجود شنگھائی مقناطیسی معلق ریل یا ٹرانس ریپڈ اب تک کی تیز رفتار ترین ریل ہے، جو تقریباً 430 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک جاتی ہے۔ اس مقناطیسی ٹیکنالوجی میں پاور کا تصرف بہت زیادہ ہے، جو اسے مہنگا بناتا ہے۔
ہائپرلُوپ کا موجودہ تصور رفتار، پاور کے تصرف اور محفوظ سفر کو ذہن میں رکھتے ہوئے تخلیق کیا گیا ہے۔ اس تصور کو عملی طور پہ کارآمد بنانے کیلئے فی الحال دنیا بھر میں کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور آزاد تحقیقاتی ادارے کام کر رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک "ہائپر لُوپ وَن" نے حال ہی میں دبئی کی وزارت آمد ورفت سے معاہدہ کیا ہے۔ جس کے تحت دبئی سے ابو ظہبی تک ہائپر لُوپ ٹریک بنائے جانے کی ممکنات کو جانچا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق ہائپر لوپ کے ذریعے یہ سفر صرف 12 منٹ میں طے کیا جا سکتا ہے۔
ہائپر لوپ ٹرانسپورتیشن ٹیکنالوجیز کا تصوراتی خاکہ

عمیر ملک

عمیر ملک -