فلکیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فلکیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

19 اگست، 2017

عمیر ملک

سورج گرہن


1999 کا سورج گرہن (تصویر: وِکی کامنز)
سورج گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے، جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آتا ہے۔ یوں تو چاند ہر مہینے زمین اور سورج کے درمیان آتا ہے لیکن اس کا مدار بیضوی اور زمین کے مقابل ذرا سا (تقریبا 5 ڈگری) تِرچھا ہونے کی وجہ سے، عام طور پہ، اس کا سایہ زمین پہ نہیں پڑتا۔ زمین اور چاند اپنی گردش کے دوران جب بھی ایک دوسرے کے برابر  آتے ہیں، تب زمین سے سورج یا چاند گرہن نظر آتا ہے۔ ایک سال میں کم از کم 2 اور زیادہ سے زیادہ 5 بار سورج گرہن دیکھا جا سکتا ہے۔ مکمل سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند سورج کو مکمل طور پہ چُھپا دیتا ہے۔ چاند، سورج کے مقابلے میں چار سو گنا چھوٹا ہے لیکن سورج، چاند کے مقابلے میں زمین سے تقریبا چار سو گنا زیادہ فاصلے پہ ہے۔ اسی تناسب کی وجہ سے زمین سے دونوں تقریباً ایک سائز کے دکھائی دیتے ہیں۔ چاند کے بیضوی مدار  کے باعث، مکمل سورج گرہن کے وقت چاند زمین سے اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے اور سورج سے زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے اور اسے مکمل چھپانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں

5 نومبر، 2016

عمیر ملک

کیا آسمان واقعی نیلا ہے؟

نیلا آسمان
کیا آسمان واقعی نیلا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم "آسمان" کس کو کہتے ہیں۔ سورج، چاند، زمین اور دیگر تمام اجسامِ فلکی خلاء میں گردش کررہے ہیں۔ خلاء بذات خود جیسا کہ نام سے ظاہر ہے "کچھ نہیں" ہے یعنی کہ کچھ بھی نہیں! لیکن مختلف اجسامِ فلکی جیسا کہ سیاروں اور ستاروں وغیرہ کے گرد  ان کی اپنی ایک فضاء موجود ہوتی ہے۔ یہ فضاء اس ستارے یا سیارے پہ موجود عناصر ہی پہ مشتمل ہوتی ہے جو کشش ثقل کے باعث اس کے گرد ایک غلاف سا بنا لیتے ہیں۔ سطح کے قریب یہ فضاء کثیف ہوتی ہے اور جیسے جیسے سطح سے بلند ہوتے جائیں تو یہ فضاء پتلی ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک خاص فاصلے سے آگے بالکل ختم ہو جاتی ہے اور خلاء شروع ہو جاتی ہے۔ زمین پہ ہم فضاء کی اس تبدیلی کو بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پہ محسوس کر سکتے ہیں، جہاں کوہ پیما فضاء کی کم کثافت کے باعث عام طور پہ سانس کی دشواری سے بچنے کیلئے آکسیجن ساتھ لے جاتے ہیں۔
 (تصویر: وکی کامنز)بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے لی گئی زمین کی نیلی فضاء کی تصویر

آسمان دراصل زمین کی اسی فضاء کو کہا جاتا ہے۔ اور اس فضاء میں آکسیجن، نائٹروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر دوسری گیسوں کا مجموعہ یعنی کہ "ہوا" موجود ہے۔ سورج کی روشنی جب اس فضاء میں داخل ہوتی ہے تو فضاء میں موجود ان گیسوں سے ٹکراتی ہے۔ روشنی بذات خود کئی مختلف رنگوں سے مل کر بنتی ہے لیکن جب یہ سب رنگ اکٹھے ہوں تو سفید نظر آتی ہے۔ یہ سفید روشنی جب ہوا کے ذرات سے ٹکراتی ہے تو مختلف سمتوں میں بکھر جاتی ہے۔ ہماری زمین کی فضاء کے ذرات اس طرح سے ہیں کہ وہ نیلی شعاؤں کو زیادہ بکھیرتے ہیں اور دیگر رنگوں کی شعائیں ان کی نسبت کم بکھرتی ہیں۔ نیلی شعاؤں کے بکھرنے سے ہمیں ساری فضاء نیلی دکھائی دیتی ہے۔ اسی نیلی روشنی کے باعث ہمیں "آسمان" میں موجود دیگر ستارے بھی نظر نہیں آتے۔ رات کو سورج کی روشنی نہیں ہوتی، اسی وجہ سے فضاء نیلی نہیں دکھائی دیتی اور ہم فضاء سے آگے موجود خلاء میں چمکتے ستارے اور چاند دیکھ پاتے ہیں۔ یہی فضاء اور روشنی کا بکھرنا افق کے سرخ رنگ اور سورج کے زرد دکھئی دینے کی وجہ بھی ہے۔ اصل میں سورج بالکل سفید ہے۔
ہمارے چاند کے گرد کوئی فضاء نہیں ہے۔ جس کے باعث چاند سے آسمان ہمیشہ سیاہ دکھائی دیتا ہے اور سورج ایک انتہائی روشن سفید طشتری کی مانند دکھتا ہے۔ مارس یا مریخ کی فضاء زمین سے مختلف ہے، اس لیے وہاں دن کے وقت آسمان یا فضاء کا رنگ زنگ آلود یا سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔ 
چاند کی سطح سے دن کے وقت زمین کا نظارہ۔ فضاء کے فقدان کے باعث آسمان بالکل سیاہ ہے۔

مریخ کی فضاء دوپہر کے وقت۔ (تصویر: وکی کامنز)۔



مزید پڑھیں